28 اکتوبر 2011 - 20:30

سعودی عرب میں سرکوبی کاسلسلہ جاری رہنےسےاس ملک میں بدامنی پھیل جائےگی ۔

ابنا: سعودی عرب کے ایک تجزیہ کار فؤاد ابراہیم نے سعودی عرب میں ہونے والے حالیہ احتجاج اور اصلاحات کے خلاف نئے سعودی ولی عہد نائف بن عبدالعزیز کے طریقۂ کار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکوبی پر مبنی اقدامات جاری رہنے کی صورت میں سعودی عرب میں آئندہ دنوں میں بدامنی پیدا ہوجائے گي۔فؤاد ابراہیم نے العالم ٹی وی چینل کو دئے گئے انٹرویو میں کہا کہ سعودی حکام اصلاحات پر عمل کرنے کے لئے عوامی مطالبات پر توجہ نہیں دے ر ہے ہیں اور شہزادہ نائف بھی عوام کے خلاف تشدد پر عمل کے درپے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ اگر سعودی عرب کے حکام نے اپنا شدت پسندانہ طریقہ جاری رکھا تو ملک میں وسیع پیمانے پر احتجاج اور بدامنی ہوگي۔فؤاد ابراہیم نے کہا کہ وزارت دفاع کے بارے میں سعودی عرب کے شاہی خاندان میں اب بھی اہم اختلاف پایا جاتا ہے اور وزارت دفاع شہزادہ سلمان کو ، جو ولیعہد کے قریبی اور معتبر افراد میں سے ہیں ، دئے جانے کی درخواستوں کے باوجود امکان ہے کہ یہ وزارت سابق ولیعہد کے خاندان کے افراد کے پاس ہی ر ہے گی۔سعودی تجزیہ کار نے مزید کہا کہ نائف کو آل سعود خاندان کے اتفاق رائے کے بغیر سعودی عرب کا ولیعہد بنایا گيا ہے اور سعودی عرب کے عوام کی اکثریت بھی انھیں اقلیتوں اور خواتین کے خلاف موقف رکھنے اور امریکہ کی طرف سے ان کی وسیع حمایت کی وجہ سے قبول نہیں کرتی ۔..........

/169